ہماری ٹرین سفاری آج پہنچی ہے جنگ شاہی کے اسٹیشن پر۔
جنگ شاہی ٹھٹھہ سے 21 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اِس کا نام اِس لئے پڑا کیونکہ یہاں حضرت پیر جنگ شاہی کی درگاہ موجود ہے۔ جنگ شاہی، جھمپیر اور ٹھٹھہ کے یہ نیم پہاڑی علاقے معدنیات کی دولت سے مالامال ہیں اور یہاں جپسم، سنگِ مرمر، سیلیکا، گرینائیٹ، کنکریٹ، کوئلے اور لائم سٹون کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ نواحی علاقے جھمپیر میں کچھ عرصہ پہلے 25 میلین میٹرک ٹن کے کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے۔
جنگ شاہی ریلوئے اسٹیشن کسی زمانے میں اِس لئے وجہِ شہرت رکھتا تھا کیونکہ یہاں تیزگام ایکسپریس رُکا کرتی تھی اور تیزگام کے مسافروں کی بھُنے ہوئے تیتروں سے تواضع کی جاتی تھی۔
جنگ شاہی اور نواحی علاقوں میں قدرتی جھیلیں پائی جاتی ہیں جن میں ہالیجی جھیل، ہڈیرو جھیل اور کینجھر جھیل قابلِ ذکر ہیں۔
لانڈھی سے جھنگ شاہی تک ہماری ٹرین جن اسٹیشنوں سے گزری ہے اُن میں رن پٹھانی، دابھیجی، گھاگھر، بڑا نالہ، بن قاسم (بندرگاہ) اور جمعہ گوٹھ شامل ہیں۔
اگلا اسٹیشن: کوٹری جنکشن
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں