منگل، 29 اکتوبر، 2013

Hyderabad Junction حیدر آباد جنکشن




ٹرین سفاری اپنے سفر پر آج پہنچی ہے حیدر آباد جنکشن۔

حیدر آباد، سندھ کا دوسرا اور پاکستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر ہے (ورلڈ گیزٹ)۔ شہر کی بنیاد 1768 میں رکھی گئی۔ شہر کا پڑانا نام نیرون کوٹ تھا۔ دنیا میں چُوڑیاں بنانے کی سب سے بڑی صنعت حیدر آباد میں قائم ہے۔ یونیورسٹی آف سندھ شہر کے نواح مین واقع ہے۔ شہر کی اہم تاریخی مقامات میں پکو قلعو ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دیگر مقامات میں رانی باغ، قلعہ رانی کوٹ، تالپور میر کے مزارات، امری کے کھنڈرات، ریشمی گلی، شاہی بازار، سندھ میوزیم شامل ہیں۔ حیدر آباد 1947 سے 1955 تک سندھ کا دارالخلافہ تھا۔ قیامِ پاکستان سے پہلے شہر کو ہندوستان کا پیرس کہا جاتا تھا کیونکہ شہر کی گلیوں کو دریائے سندھ کے پانی سے دھویا جاتا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سندھی زبان کی ثقافت میں حیدرآباد کو انتہائی اہم اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

یہ ایک اہم جنکشن اسٹیشن ہے کیونکہ یہاں سے ایک لائن نوابشاہ اور روہڑی کی طرف جبکہ دوسری لائن میر پور خاص اور کھوکھراپار موناباؤ کی طرف نکلتی ہے۔

اگلا اسٹیشن: ٹنڈو آدم



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں